اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایران کے حالیہ میزائل حملوں کو لبنان کے ساتھ تہران کی عملی وابستگی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل وقت میں لبنان اور مزاحمت کے ساتھ کھڑا ہے۔
منگل کے روز جاری بیان میں حزب اللہ نے کہا کہ اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں ایران کی کارروائی سیاسی، اخلاقی اور عملی حمایت کا واضح اظہار ہے۔ تنظیم کے مطابق اس اقدام کا مقصد اسرائیل کو باز رکھنا اور امریکہ سمیت تل ابیب کے حامیوں کو واضح پیغام دینا تھا۔
حزب اللہ نے یمن کی انصار اللہ تحریک کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ محورِ مزاحمت کی مختلف قوتیں اسرائیلی اقدامات کے خلاف مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
بیان میں ایران کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ تہران نے لبنان کی حمایت کے لیے سیاسی اور مالی قیمت ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا اور ہمیشہ لبنانی عوام اور مزاحمت کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔
حزب اللہ نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے لیے موجود مواقع سے فائدہ اٹھائے۔
تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کو اپنی قومی طاقت، عوامی حمایت اور مزاحمت کی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کرنا چاہییں۔
حزب اللہ نے بعض حلقوں کی جانب سے ایران کے خلاف جاری تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے کردار کے خلاف لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور حقائق کے منافی ہیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ لبنان کے ساتھ ایران کا مؤقف قابلِ تحسین ہے اور لبنانی حکام کو اس حمایت کا اعتراف کرنا چاہیے، نہ کہ بیرونی دباؤ کے تحت اس کی مخالفت یا توہین کی جائے۔
آپ کا تبصرہ